کنڈلور،26؍جولائی (ایس او نیوز) پولیس کے ذریعے مبینہ طور پر کنداپور تعلقہ کے کنڈلور میں رہنے والے بی ایچ عبداللہ (26سال) کی پیٹائی کرنے اور اس کے ہاتھ اور پاؤں میں فریکچر کا سبب بننے والے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے اڈپی پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ایک میمورنڈم دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائے اور خاطی پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
بتایا جاتا ہے کہ عبداللہ اپنی روزی روٹی کمانے کی نیت سے 18جولائی کو رات 4بجے کے قریب کشتی پر سوار ہو ر گُلواڈی کی ندی میں مچھلیاں پکڑنے گیاہواتھا۔اس وقت کنڈلور دیہی پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر نے عبداللہ کو روک کر اس سے پوچھ تاچھ کی۔ مچھلیاں پکڑنے کے لئے گھر سے نکلنے کی بات کہنے کے بعد بھی ایس آئی نے گالیاں بکتے ہوئے اپنی لاٹھی اور لوہے کی سلاخ سے عبداللہ کو اتنا پیٹا کہ اس کے ایک ہاتھ اور ایک پیر میں فریکچر آگئے ہیں۔
اے پی سی آر کے ضلع صدر حسین کوڈی بینگرے نے ایس پی کو دی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ایس آئی نے عبداللہ کو پیٹنے کے بعد یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگریہ بات کسی کو بتائی یا پھر عدالت میں جانے کی کوشش کی تو اس کاانجام بہت برا ہوگا۔انہوں نے اس پورے واقعے کی مناسب جانچ کرنے اور خطاکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اے پی سی آر نے ریاستی چیف سیکریٹری، ڈی جی پی، آئی جی پی، چیف جسٹس ہائی کورٹ، اقلیتی کمیشن اور ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن کو بھی اپنی شکایت بھیجی ہے، اور جلد از جلد اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔